پی ام سی موزیک | PMC MUSIC
.
تعرفه تبلیغات:
@pmc_ads
.
دینی، علمی،اصلاحی معلومات کے لئے
بہترین چینلس
سب سے اوپر دائیں جانب فولو Follow والے آپشن پر کلک کرکے اس چینلس سے جڑیں،
چینل: اصلاحی مضامین و ارشادات
https://whatsapp.com/channel/
0029VaMpc89BPzjPf9zpXw1y
چینل: ملفوظات مولانا الیاس صاحب کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ
https://whatsapp.com/channel/0029Vanu1qR05MUk9MOWf547
چینل :فیضان حکیم الامت
https://whatsapp.com/channel
0029VafvcMh7T8bOrOmvM62I
چینل: نشر الطیب
https://whatsapp.com/channel/0029Vaj2xks7z4kfiYUW2c2a
چینل: خطبات حکیم الامت
https://chat.whatsapp.com/IJR9B4Ubsdh522lielGlAn
چینل: ملفوظات مولانا الیاس صاحب رحمۃ اللہ علیہ
آنے والوں تمام دوستوں کو تہہ دل سے خوش آمدید
?علماء کرام جو دعوت و تبلیغ سے جوڑے ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ ان سے اعتدال اور اخلاص کے ساتھ دین کی خدمت لے
?اس چینل پر خصوصا ملفوظات مولانا الیاس صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور عموما دیگر اکابر امت کی تعلیمات دعوت و تبلیغ کے متعلق ارسال کی جائے گی
?مبلغین حضرات سے درخواست ہے کہ اکابر کے ملفوظات و ارشادات سے زیادہ زیادہ استفادہ فرمائیں
محمد زید مظاہری ندوی
استاد حدیث دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو
یکم ربیع الاول ص ۱۴۳۶ھ
اے علماء کرام………..
آپ حامل علوم نبوت اور جانشین نبی ہیں جن کی شان میں یہ وارد ہوا ہے ينفون عنه تحريف الغالين وانتحال المبطلين وتاويل الجاهلين (مشکوة شریف کتاب العلم)
یعنی آپ دین میں غلو کرنے والوں اور تحریف کرنے والوں کی اصلاح کرتے ہیں ، اہل باطل کے باطل دعووں کا ابطال کرتے ہیں ، جاہلوں اور نادانوں کی غلط تشریحات و توجیہات کی خرابی بیان کرتے اور اس کی اصلاح کرتے ہیں، بہر صورت آپ امت کے پاسباں محافظ ، اور نگراں ہیں، آپ کا مقام حضور نے بیان فرمایا ہے کہ آپ میں کا ایک فرد ہزار غیر عالم عابدوں ، زاہدوں ، مبلغوں پر بھاری ہے، اس لحاظ سے آپ کی ذمہ داری بہت بڑھی ہوئی ہے ، آپ کا کام امت کو لے کر چلنا ہے اور امت جن غلطیوں اور کوتاہیوں میں مبتلا ہے اس کی اصلاح کی کوشش کرنا ہے
آج بھی امت میں دعوت و تبلیغ کے لائن سے ناواقفیت اور جہالت کی بنا پر انبیاء اور صحابہ اور دین کے تعلق سے سیکڑوں ہزاروں باتیں گشت کر رہی ہیں جو قابل اصلاح ہیں، آج بھی علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ حق و باطل میں امتیاز کر کے حق کو حق اور باطل کو باطل کہہ کر اپنی ذمہ داری پوری کریں اور غلو سے امت کو بچانے کی پوری کوشش کریں۔ اور عوام الناس کی ذمہ داری بنتی ہے کہ علماء حق کے ہدایات اور تنبیہات کے مطابق اپنی اصلاح کریں خصوصاً پڑھا لکھا طبقہ کہ وہ زیادہ عقل و فہم رکھتے ہیں ان کی ذمہ داری بھی بہ نسبت دوسروں کے زیادہ ہے کہ وہ عقل و فہم سے کام لے کر اہل حق علماء کی باتوں کو سمجھیں اور اس کے مطابق اپنی اصلاح کریں، اور علماء کی ماتحتی میں انہیں کے مشورہ سے کام کریں۔
https://whatsapp.com/channel/0029Vanu1qR05MUk9MOWf547
*? جواہر الرشید (ایک علمی خزانہ)
✍️* مفتی سفیان بلند
رئیس دارالریان اکادمی آن لائن
فقیہ العصر حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللہ کے ملفوظات کا اہم مجموعہ ہے جس کے 11 حصے ہیں، ہر حصہ میں بڑے اہم ملفوظات، نصائح، تجربات، واقعات، ارشادات اور تربیتی امور ہیں، الحمد للہ ! اس سے تقریبا 150 سے زائد "جواہرات" الگ کئے، ان ملفوظات کے مطالعہ کا خیال عرصہ سے تھا تاہم محرم الحرام 1446ھ کی تعطیلات میں سہ روزہ مستورات کی تشکیل جب ہادی مارکیٹ ناظم آباد نمبر 4 میں ہوئی تو قریب ہی آپ کے قائم کردہ دارالإفتاء والإرشاد جانا ہوا، وہاں جامعة الرشید کے استاذ مفتی افتخار احمد صاحب حفظہ اللہ سے ملاقات ہوئی، آپ کے پیچھے اسی مسجد میں نماز پڑھی جو حضرت والا کے عالمی فیض کا منبع بنی، راقم کو اس مسجد میں پہلی بار آنے کا موقع ملا، (گرچہ اس سے قبل آپ کے جنازہ میں شرکت زمانہ طالبعلمی میں ہوئی تھی مگر اس میں نماز جنازہ باہر پڑھی تھی)
خیر ! اس مسجد کے انوار و برکات و فیوض سوچتا رہا اور چشم تصور میں یہی خیال آتا رہا کہ کاش زمانہ طالبعلمی میں یہاں حاضری دی ہوتی، آپ کے فیوض و جواہر کی بابت سوچتا رہا اور کم قسمتی پر افسوس کرتا رہا، کاش ! یہاں کی مجالس سے استفادہ کیا ہوتا !!!
خیر "قدر اللہ وماشاء فعل" کے مصداق تو اس وقت تو فیض نہ لے سکا مگر یہ خیال دل میں بار بار آتا رہا کہ جو علمی و دینی جواہرات یہاں سے چہار دانگ عالم میں پھیلے، اس کا کچھ ذرہ مل جائے، سو کل جماعت کے تیسرے دن کے آخری پہر جواہر الرشید کی پی ڈی ایف سے کچھ مطالعہ شروع کردیا، مفتی افتخار احمد سے بھی اس پر گفتگو ہوئی تھی، اس دوران ان کو اور ان کے توسط جامعة الرشید کے چار حضرات کو اپنی کتاب فقہ الحلال بھی ارسال کی، مفتی صاحب نے بڑا وقت دیا اور حوصلہ افزائی فرمائی، رات ہماری تشکیل والی مسجد میں آئے اور خوب گپ شپ رہی، راقم کی طبیعت کے حوالہ سے انہوں نے جواہر الرشید کا بھی ایک خوبصورت اقتباس اگلے دن ارسال کیا، سو ان جواہرات کے مطالعہ کا اشتیاق بڑھا، واپسی پر اس کا مطالعہ شروع کردیا اور 24 گھنٹے میں 11 حصے تمام ہوئے، اس مطالعہ کے دوران بہت سے اہم ملفوظات کو الگ کرکے اپنے ادارے "دارالریان اکادمی آن لائن" کے شعبہ تصمیم الریان (ٹائپنگ اینڈ گرافکس) کو ارسال کئے، یہ ایسے ملفوظات ہیں جو زندگی کے لئے مشعل راہ ہیں، نشان منزل ہیں، مینارہ نور ہیں، منبع ہدایت ہیں، نیز ان میں چند ایسے ملفوظات بھی نظر سے گزرے جو بہت تفصیلی ہیں، ان پر ان شاء اللہ! آن لائن تربیتی نشست رکھنے کا ارادہ ہے، ان کے عناوین (مع ترمیم) پیش خدمت ہیں:
1- ہندوستان کو بھارت انڈیا کہنے کی قباحتیں (19/11)
2- بیان اور کھانا ساتھ کرنے کی قباحت (9/7)
3- اولاد کی تربیت نہ کرنے والے مجرم ہیں (12/7)
4- شادی ہال کے مفاسد (82/7)
5- مطبوعہ وعظ اور براہ راست وعظ سے استفادہ کی صورت (90/7)
6- مطبوعہ وعظ اور براہ راست وعظ سے استفادہ کی صورت (90/7)
7- ملک الموت کا نام عزرائیل نہیں ہے (92/7)
8- زکوة دینے میں غلطیاں (94/7)
9- چائے کے نقصان (77/6)
10- دواؤں کے نقصان (91/6)
11- عورتوں کا ناک چھدوانا (109/6)
12- وفات شیخ کے بعد (9/5)
13- حیات شیخ میں دوسرا شیخ (10/5)
14- مزاح بھی ذخیرہ آخرت (23/5)
15- مدارس کا نصاب (27/5)
16- لا أدري، "جُنة العلماء" ہے یعنی ڈھال (35/5)
17- جاہل کا اعتقاد (37/5)
18- خواتین ، مصلحات الأمة ہیں (60/5)
19- اسباب حرمت (83/5)
20- اختلاف کی قسمیں اور شرائط (58/4)
21- بوقت طعام کراہت سلام و کلام (61/4)
22- خدام دین ، رشتہ کا کام نہ کریں (9/2)
23- دینی و دنیاوی ادارے کی اصلاح کا طریقہ (12/2)
24- سائل عاقل ملنے کی دعا (13/2)
25- ذکر اللہ کو کسی دوسری چیز کا ذریعہ نہ بنائیں (47/2)
26- شیخ کامل سے تعلق میں وسوسہ عدم پاسداری (108/1)
27- مختلف امراض کے تھرمامیٹر (103/1)
(10 محرم الحرام 1446ھ بمطابق 17 جولائی 2024ء الأربعاء)
*? معهد الإمام سفیان الثوری*
(علوم و فنون کی فکری درســگاہ)
https://www.facebook.com/share/p/hMwEzqwjbCQGcE1U/?mibextid=oFDknk
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
*? شذرات الریـــــــان*
*? نئے مطالعہ کی مشکلات و ذمہ داریاں*
مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ
ہمارے مدارس میں نئے مطالعہ کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے، مگر مجھے اس کا اظہار کرتے ہوئے افسوس ہوتا ہے کہ اس میں کوئی سنجیدگی اور گہرائی نہیں، میں عصری مطالعہ کا بڑا داعی ہوں مگر بے تکلف کہتا ہوں کہ وہ اس قدر آسان اور سرسری کام نہیں، جتنا سمجھ لیا گیا ہے، اس کے لئے کتابوں کے صحیح انتخاب و ترتیب پر پوری رہنمائی اور کسی اچھے مشیر کی رفاقت کی ضرورت ہے، پھر اس سے پہلے اس کی ضرورت ہے کہ وہ ذہن تیار ہو جائے جو اس مطالعہ سے فائدہ اٹھا سکے، معلومات میں صحیح ترتیب و نظام قائم کرسکے اور ان کو صحیح طور پر استعمال کرسکے، اگر یہ ذہن صحیح تعلیم و تربیت اور اساتذہ کی صحبت سے تیار ہوگیا تو وہ ہر طرح کی پڑھی چیزوں سے کام لے گا اور معلومات کے مواد خام سے کار آمد مصنوعات اور عظیم نتائج پیدا کرے گا اور ادب، تاریخ، معلومات عامہ، یہاں تک کہ بہت سی غیر متعلق چیزوں سے دین کی نصرت اور خدمت کا ایسا موثر اور حیرت انگیز کام لے گا جو بعض اوقات خالص دینی چیزوں سے نہیں لیا جاسکتا، اس وقت "{مِنۢ بَیۡنِ فَرۡثࣲ وَدَمࣲ لَّبَنًا خَالِصࣰا سَاۤئغࣰا لِّلشَّـٰرِبِینَ} [النحل ٦٦] کی حقیقت کا ظہور ہوگا، اگر ایسا نہیں ہے، دین کی بنیاد میں قلب و دماغ میں مستحکم نہیں ہوئی ہیں، ذہن کج اور ذوق فاسد ہے تو "هر چه گیرد علتی علت شود" کا مصداق ہوگا۔ (خطبات علی میاں 67/1)
*? دارالریان اکادمی آن لائن*
پی ام سی موزیک | PMC MUSIC
.
تعرفه تبلیغات:
@pmc_ads
.