❤️اہل دل❤️

Description
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
تُو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن
We recommend to visit

پی ام سی موزیک | PMC MUSIC

.

تعرفه تبلیغات:
@pmc_ads

.

1 year, 7 months ago
**ناخن بڑھانا**

ناخن بڑھانا

سوال:
شریعت کی رو سے ناخن بڑھانے کا کیا حکم ہے؟نیزاگر شوہر کو بڑھے ہوۓ ناخن پسند ہوں تو کیا بڑھا سکتے ہیں؟

جواب:
واضح رہے کہ فطرتِ انسانی میں سے ناخن تراشنا بھی ہے، جیسا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ’’صحیح بخاری‘‘ و ’’صحیح مسلم‘‘ میں مذکور ہے۔ اور فقہاءِ کرام نے ہر ہفتہ ناخن تراشنے کو مستحب قرار دیا ہے، اور ہرجمعے کے روز نہ کاٹ سکے تو ایک جمعہ چھوڑ کر پندرہ دن میں تراش لے، اور چالیس دن سے زیادہ ناخن یا بال نہ کاٹنا مکروہ ہے، چالیس دن کی تحدید بھی حدیثِ مبارک میں وارد ہے۔
شوہر کی پسند کو سامنے رکھ کر مروجہ فیشن کے طور پر  یا فساق و فجار کی مشابہت میں ناخن بڑھانے کی اجازت نہیں۔ نیز  ناخن بڑھانا بعض بیماریوں کا سبب بھی ہے۔ شوہر کی اطاعت مباح امور میں لازم ہے، خلافِ شرع کاموں میں شوہر کی اطاعت نہیں کی جاسکتی۔شوہر کو شرعی حکم بتلاکر حکمت و بصیرت سے سمجھادینا چاہیے۔

مشکوۃ المصابیح میں ہے:
"٤٤٢٠ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " «الْفِطْرَةُ خَمْسٌ: الْخِتَانُ، وَالِاسْتِحْدَادُ، وَقَصُّ الشَّارِبِ، وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ، وَنَتْفُ الْإِبِطِ»". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ". ( مشكاة المصابيح، كتاب اللباس، بَابُ التَّرَجُّلِ، الْفَصْلُ الْأَوَّلُ، رقم الحديث: ٤٤٢٠)

التنوير مع الدر و الرد میں ہے:
"(وَيُسْتَحَبُّ قَلْمُ أَظَافِيرِهِ) إلَّا لِمُجَاهِدٍ فِي دَارِ الْحَرْبِ، وَفِي الْمِنَحِ: ذُكِرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - كَتَبَ إلَيْنَا: وَفِّرُوا الْأَظَافِيرَ فِي أَرْضِ الْعَدُوِّ؛ فَإِنَّهَا سِلَاحٌ؛ لِأَنَّهُ إذَا سَقَطَ السِّلَاحُ مِنْ يَدِهِ وَقَرُبَ الْعَدُوُّ مِنْهُ رُبَّمَا يَتَمَكَّنُ مِنْ دَفْعِهِ بِأَظَافِيرِهِ وَهُوَ نَظِيرُ قَصِّ الشَّارِبِ، فَإِنَّهُ سُنَّةٌ وَتَوْفِيرُهُ فِي دَارِ الْحَرْبِ لِلْغَازِي مَنْدُوبٌ، لِيَكُونَ أَهْيَبَ فِي عَيْنِ الْعَدُوِّ اهـ مُلَخَّصًا ط". ( ٦ / ٤٠٥) 

فقط والله أعلم

فتوی نمبر: 144108200060

دارالافتاء: جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

https://t.me/Ahledil

1 year, 7 months ago
**کیا ٹوتھ برش سے مسواک کی …

کیا ٹوتھ برش سے مسواک کی سنت ادا ہوجائے گی؟

سوال:
کیا مسواک کرنا ضروری ہے یا ٹوتھ برش سے بھی دانتوں کی صفائی کی سنت ادا ہو جائے گی؟

جواب:
اصل سنت درخت کی مسواک ہے، اگر درخت کی مسواک نہ ملے یا دانت نہ ہوں یا دانت و مسوڑھے کی خرابی کی وجہ سے مسواک کرنے سے تکلیف ہوتی ہو تو ہاتھ کی انگلی یا موٹے کھردرے کپڑے یا منجن، ٹوتھ پیسٹ یا ٹوٹھ برش سے مسواک کا کام لیا جاسکتا ہے، مگر مسواک ہوتے ہوئے اور مسواک کے استعمال پر قدرت ہوتے ہوئے مذکورہ تمام چیزیں مسواک کی سنت ادا کرنے کے لیے کافی نہیں؛ کیوں کہ یہاں دو چیزیں مطلوب ہیں:
(1) مسواک کی سنت۔
(2) دانتوں کی صفائی۔
ان مذکورہ چیزوں سے دانتوں کی صفائی ضرور حاصل ہوجاتی ہے جو کہ بذاتِ خود مطلوبِ شرعی ہے، رسول اللہ ﷺ نے دانت صاف نہ کرنے پر بعض لوگوں سے ناراضی کا اظہار بھی فرمایا، لیکن مسواک کا صرف یہی مقصد نہیں ہے، بلکہ مسواک کے ستر تک فوائد بیان کیے گئے ہیں، لہٰذا ان اشیاء کے استعمال سے مسواک کی سنت کا پورا اجر حاصل نہیں ہوگا۔ 
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 115):
"وفي النهر: ويستاك بكل عود إلا الرمان والقصب. وأفضله الأراك ثم الزيتون."
(کتاب الطهارۃ، سنن الوضو، ط:سعید) 
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 115):
"وعند فقده أو فقد أسنانه تقوم الخرقة الخشنة أو الأصبع مقامه، كما يقوم العلك مقامه للمرأة مع القدرة عليه."
(کتاب الطهارۃ، سنن الوضو،ط:سعید)
الفقه على المذاهب الأربعة (1/ 64):
"ومن السنن المؤكدة السواك، و لايشترط أن يكون من شجر الأراك المعروف، بل الأفضل أن يكون أشجار مرة، لأنه يساعد على تطييب الفم، وله فوائد معروفة، فهو يقوي اللثة، وينظف الأسنان، ويقوي المعدة، كي لا يصل إليها شيء من أدران الفم، والأفضل أن يكون رطباً، وأن يكون في غلظ الخنصر، وطول الشبر، فإذا لم يجد سواكاً فإنه - الفرشة - تقوم مقامه، وإذا لم يجدها استاك بإصبعه، ويقوم مقام السواك العلك - اللبان-."
(کتاب الطهارۃ، مباحث الوضو، مبحث بيان عدد السنين وغيرها من مندوبات، ونحوها،ط: دارالکتب العلمیة بیروت) 

کفایت المفتی (2/ 322) میں ہے: 
سوال:
دانت صاف کرنے کے لیے کئی قسم کے برش ملتے ہیں، کیا ان سے دانتوں کو صاف کرنا جائز ہے؟

جواب:
دانتوں کو مسواک سے صاف کرنا مسنون ہے، برش اگر پاک ہو تو اس کا استعمال اگرچہ طریقۂ مسنونہ کے موافق نہیں، تاہم مباح ہوگا ۔۔۔‘‘الخ
(کتاب الطہارۃ، مسواک سے دانتوں کو صاف کرنا مسنون ہے، ط: دارالاشاعت کراچی) 

امداد المفتین (242) میں ہے: 
’’مسواک کے بارے میں نبی کریم ﷺ سے جو صورت علی المواظبہ ثابت ہے وہ یہی ہے کہ لکڑی سے مسواک کی جائے اور لکڑیوں میں بھی پیلو درخت کی لکڑی زیادہ پسندیدہ ہے، لیکن اگر لکڑی کی مسواک اتفاقاً موجود نہ ہو تو انگلی سے یا موٹے کپڑے وغیرہ سے دانت صاف کرلینا مسواک کے قائم مقام ہوسکتا ہے ۔۔۔ برش کا اصل حکم بھی یہی ہے کہ اگر اتفاقاً مسواک موجود نہ ہو تو اس کا استعمال قائم مقام مسواک کے ہوجائے گا، لیکن بطورِ فیشن اس کی عادت ڈال لینا مناسب نہیں اور نہ بلاضرورت وہ مسواک کے قائم مقام ہوسکتا ہے۔‘‘
(کتاب الطہارۃ، وضو کی سنتوں، آداب اور اس کے مکروہات کا بیان، ط: دارالاشاعت کراچی)

فقط واللہ اعلم

فتوی نمبر: 144204201033

دارالافتاء: جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

https://t.me/Ahledil

1 year, 8 months ago
١/٢ خاتون ڈاکٹر کا مرد مریض …

١/٢ خاتون ڈاکٹر کا مرد مریض کا علاج کرنے کا حکم سوال:  ہمارے ڈینٹل کالج کے اپنے ڈیپارٹمنٹ میں دانتوں کے علاج معالجہ کے لئے دستیاب ڈاکٹرز میں سے 29 لڑکیاں اور 4 لڑکے ہیں ِ جب کہ مریضوں میں خواتین وحضرات کی تعداد تقریبا برابر ہوتی ہے، اس لئے مجبوراً لڑکیوں…

1 year, 10 months ago
سوال: ہندؤں کو دیوالی کی مبارک …

سوال: ہندؤں کو دیوالی کی مبارک باد  دینی چاہیے یا نہیں؟ نیز یہ بھی راہ نمائی فرما دیں کہ ان کی طرف سے دیوالی کی خوشی میں بھیجی گئی مٹھائی کھانا جائز ہے یا نہیں؟ جواب: کسی مسلمان کے لیے ہندؤوں کی ہولی، دیوالی یا ان کے کسی اور مذہبی تہوار کے موقع پر اس کی مبارک…

1 year, 11 months ago

١/٢
مولانا مودودی کے بارے میں اکابرین کی رائے

سوال:
مولانا مودودی کی تفسیر تفہیم القرآن کے پہلےایڈیشن اور آج کے ایڈیشن میں واضح فرق نظر آرہا ہے، کیا مولانا مودودی کے نظریات شرعی لحاظ سے درست تھے یا نہیں؟

جواب:
ہمارے اکابر نے مولانا مودودی صاحب کو راہِ حق سے ہٹا ہوا اور اسلاف سے خلاف رائے رکھنے والاشخص قرار دیا ہے؛ کیوں کہ موصوف کی عبارات اور تحریرات میں جابجا انبیاءِ کرام علیہم الصلاۃ والسلام، صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی عنہم اجمعین پر تنقید کی گئی ہے، مولانا مودودی سے متعلق ہمارے اکابرین کی رائے مندرجہ ذیل ہے:

سابق مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی ولی حسن ٹونکی صاحب رحمہ اللہ ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں:

"مودودی لوگ اگر مودودی صاحب کے اَفکار و خیالات سے اس طرح متفق ہیں کہ تصوف جو کہ تزکیہ و اِحسان کا دوسرا نام ہے، اس کے منکر ہیں، انبیاءِ کرام علیہم السلام مثلًا: حضرت داؤد و حضرت یونس علیہما السلام، اسی طرح سنتِ رسول (علی صاحبہا الصلاۃ و السلام) اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے حق میں اَدب کا انداز نہیں ہے، بلکہ العیاذ باللہ تنقید کا انداز ہے، علاوہ ازیں علماءِ امت حضرات علماءِ دیوبند جو اپنے زمانہ میں چراغِ ہدایت تھے اور اب بھی ان کی تعلیمات مینارۂ نور ہیں، کے بارے میں تنقیص کا انداز ہے، اس کے علاوہ ائمہ مجتہدین میں سے کسی امام کی تقلید نہیں ہے، اس لیے فقہی انتشار ہے، جس کے نقصانات ظاہر ہیں، اتباعِ ہویٰ جس کا نتیجہ ظاہر ہے، اس مودودیوں کو گم راہ ہی کہا جاسکتا ہے۔ مذکورہ بالا خیالات والے شخص کو مستقل امام نہیں بنانا چاہیے۔ فقط واللہ اعلم

کتبہ: ولی حسن ٹونکی، بتاریخ: 2/2/ 1404 "

دوسرے سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں:

"مودودی صاحب کی مندرجہ بالا تفسیر غلط ہے، انبیاءِ کرام علیہم السلام معصوم ہیں، اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں پر بھی کہیں عتاب کا معاملہ کرتے ہیں، لیکن ہم پر فرض ہے کہ ان خاصانِ خدا اور انبیاءِ کرام علیہم السلام کا ادب و احترام اور ان کی نبوت و رسالت پر ایمان سے سرشار رہیں، ان حضرات کی جناب میں گستاخی اور توہین انسان کو ایمان جیسی نعمت سے محروم کردیتی ہے۔ فقط واللہ اعلم

کتبہ: ولی حسن ٹونکی، بتاریخ: 12/ 1/ 1402 "

مفتی احمد الرحمٰن صاحب رحمہ اللہ ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں:

"مولانا مودودی پر علماء نے کفر کا فتویٰ نہیں لگایا، البتہ ان کی تحریر میں بے شمار ایسی گم راہ کن باتیں پائی جاتی ہیں جو سراسر اسلام کے خلاف ہیں، اور علماءِ فن نے اس کی گرفت کی ہے، اور علماء پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ مودودی کی گم راہیوں سے عامۃ المسلمین کو آگاہ کریں۔ فقط واللہ اعلم

کتبہ: احمد الرحمٰن غفرلہ"

ایک اور سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں:

"مودودی صاحب کی تحریروں اور کتابوں میں بے شمار باتیں اہلِ حق کے مسلک کے خلاف موجود ہیں، مثلًا: انہوں نے عصمتِ انبیاء کو مجروح کیا، صحابہ کرام کی شان میں بے ادبی اور گستاخی کی، ان کی طرف ایسی غلط باتیں منسوب کیں جن سے ان کا دامن پاک ہے، اور ایسے الزامات عائد کیے ہیں جن کو معمولی درجہ کا انسان بھی برداشت نہیں کرسکتا، یہی وجہ ہے کہ اس قسم کی بے شمار تحریروں کی وجہ سے علماءِ کرام نے مودودی صاحب کو گم راہ قرار دیا ہے، اور تحریر و تقریر میں عوام الناس کو اس فتنے سے آگاہ کیا "فقط واللہ اعلم

کتبہ: احمد الرحمٰن غفرلہ، بتاریخ: 5/ 20/ 1390

مفتی محمد عبدالسلام چاٹگامی صاحب دامت برکاتہم العالیہ ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں:

"واضح رہے کہ مولانا مودودی صاحب نے انبیاءِ کرام علیہم السلام کی عصمت پر جو حملہ کیا ہے اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کی عدالت پر جو زہر افشانیاں کی ہیں، ان کی وجہ سے مودودی صاحب راہِ حق اور امتِ مسلمہ کے متفقہ مذاہب سے ہٹے ہوئے، گم راہی کی راہ پر گامزن تھے، اس لیے اکابر اور محققین علماء نے ان پر گم راہ ہونے کا فتویٰ تو دیا ہے، مگر کفر کا فتویٰ کسی نے نہیں دیا، لہٰذا اس وقت جو ان کے پیروکار ہیں، ان کا بھی یہی حکم ہے، الا یہ کہ وہ مودودی صاحب کے گم راہ کن خیالات سے توبہ کرلیں۔"

کتبہ: محمد عبدالسلام عفا اللہ عنہ ، بتاریخ: 29/ 4/ 1403

مزید مطالعہ کے لیے حجۃ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ (المتوفی: 1957ء) کی تحریر وکتاب "مودودی دستور وعقائد کی حقیقت" کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے...

(جاری ہے)

https://t.me/Ahledil

1 year, 11 months ago

مودودی صاحب کے عقائد اور ان کا حکم سوال: مودودی کے عقائد کیا تھے اور کیا ان کا عقیدہ انہیں کفر تک پہنچا دیتا ہے؟ جواب: تکفیرِ مسلم کا مسئلہ بہت اہم اور نازک ہے، حضرت امام اعظم رحمہ اللہ کا قول ہے کہ: اگر کسی کے قول میں ۹۹/ احتمالات کفر کے پائے جائیں اور…

We recommend to visit

پی ام سی موزیک | PMC MUSIC

.

تعرفه تبلیغات:
@pmc_ads

.